Skip to main content

Posts

ماہی ‏سیاہ ‏کوچولو ‏‏

سردیوں کی سب سے لمبی رات یعنی شبِ یلدا تھی۔ ندی کی تہہ میں ایک بوڑھی مچھلی نے اپنے 12000 بچوں اور نواسے نواسیوں کو اکٹھا کیا اور کہانی سنانی شروع کی :  تو بچو! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دور ایک  وادی میں ایک ندی تھی جہاں ایک چھوٹی سی  کالی مچھلی اپنی اماں کے ساتھ رہا کرتی تھی، نام تھا اس کا ماہی کوچولو۔ ماہی یعنی مچھلی اور کوچولو یعنی چھوٹی سی پاری سی۔ ندی کا پانی پہاڑ کے پتھروں سے نکل کر وادی کی گہرائیوں میں کھو جاتا تھا۔ ماہی کوچولو اور اس کی اماں کا گھر ایک کالے پتھر کے پیچھے تھا جس پر کائی جمی ہوئی تھی۔ رات ہوتی تو ماں بیٹی دونوں کائی کے نیچے  خاموشی سے سو جاتیں۔ ماہی کوچولو کی بڑی خواہش تھی کہ کوئی ایسی رات بھی ہو کہ کسی صورت چاند کی روشنی اسکے گھر میں دیکھنے کو ملے پر اس کائی جمے  کالے پتھر کو چاند کی روشنی کہاں نصیب ہونا تھی۔ دونوں ماں بیٹی ایک چھوٹی سی ندی میں صبح سے شام ایک دوسرے کے آگے پیچھے تیرتے رہتے۔ کبھی کبھی دوسری مچھلیاں بھی ساتھ ہو لیتیں اور زندگی ایک چھوٹے سے دائرے میں گھومتی رہتی۔ ماہی کوچولو بہت عقل مند تھی اور شاید اسکی یہ وجہ تھی کہ اس کی اماں ...

sunbeam's bedsheet

chess piece of heart

blood

marinated wounds

jag main ik sel-e-baykaran ho ga

جگ   میں اک سیل بے کراں ہو گا دل  کا اک اشک جب عیاں ہو گا  پرتو خر سے جسم ڈھانپے ہوئے  تیرے پہلو میں آسماں ہو گا  مجھ میں مجھ سا نہیں رہا کچھ بھی بے دلی میرا دل کہاں ہو گا شور  اٹھتا ہے  دل کے جانے کا ایک ہنگامہ  رایگاں ہو گا تنہا رہتا ہے سوچتا ہے بہت  تو خدائی سے بدگماں ہو گا گنجلک شعرِ موئے یار ہوئے  دام میں دم بہ دم جہاں ہوگا لوہو آنکھوں میں اب نہیں آتا  یعنی رگ رگ دھواں دھواں ہو گا خندۂ یار برقِ طوفاں ہے   گریہ کس قہر کا نشاں ہو گا