زمین پر بیٹھتے ہی مقبول نے اپنے گیلے ہاتھ اپنی نسواری قمیض سے پونچھے اور قصہ سنانا شروع کیا۔ حاجی افضال نے، جو اس وقت صرف فضلو تھا، کچھ تامل کے بعد وہ معجون یا سفوف یا جو بھی تھا پھک لیا۔ افتی اور شامی دونوں مُسک رہے تھے۔ "ما چو 15 منٹ کی بات ہے یہ تن کے سیدھا ہو جائے گا۔ لگا رہیں رات ساری فر " فضلو کی سہاگ رات تھی اور یہ دوست اس کا بھلا چاہتے ہی ہونگے اب نیتوں کا حال تو خدا جانے، واللہ اعلم، پر گولڑے کی کسی خاص دکان سے لائے تھے یہ سفوف یا معجون یا جو بھی تھا۔ حکیم نے کہا تھا بوڑھے کھائیں تو جوان ہو جائیں، اور جوان کھائیں تو حیوان ہو جائیں اور حیوان اب کھائیں تو پتا نہیں کیا ہو۔ پر حیوان کیوں کھانے لگے یہ معجون سر جی۔ ان کو تھوڑا ہی نا سرعتِ انزال کا مسئلہ ہوتا ہو گا۔ اور ہوتا بھی ہو اس کا کوئی ربط ان کی انا سے تھوڑا ہی نا ہوتا ہو گا،جو ہو گیا تو ہو گیا۔ اچھا، سنیں۔۔۔ اب دوستوں نے مسکتے ہوئے اسے اندر بھیج دیا۔ اماں جی مسکراتے مسکراتے اسے گھور رہی تھیں۔ ابا جی تو کب کے لیٹنے کی تیاری میں تھے۔ چھوٹا سا تو گھر ہے انکا۔ دو تو کمرے ہیں۔ یا یوں کہو کہ کمرا ایک...
Comments
Post a Comment