Skip to main content

Posts

Haiyat

جسم سے اپنے مبرا ہو گیا تھا رات میں عقلِ کُل سمجھا تھا ذرّا ہو تھا رات میں ایک ذرے کو عدم تک پہنچتے صدیوں کا غم ؟ ایک ذرّے کا ہزاروں مار پیچوں سے گزر ؟ یاں فنا ہو کر فنا ہونا کہاں ممکن ہوا؟

raat kay kaalay pankh

شب سیاہ پنکھ پسارے رگِ جاں نوچتی ہے  دودھیا کوہ پہ خاموش پڑے ہیں سائے  دل شکستہ ہے گگن جس کے اگن رستوں پر  مہرِ آزردہ نے تاروں کو بکھیرا ہے ابھی  أبو العلاء المعري : اللزوميات  ترجمہ : رضی حیدر 

shab e noor kay gaisu

اے مری جان شبِ نور کے چندر گیسو  شفقِ صبح سے ، مغرب سے کہیں زریں ہیں  جن کے پھندوں میں ہیں کندن سےدرخشندہ سراب،  دن کے جھانسوں سے، منور ہیں یہ خاموشی کے پل  أبو العلاء المعري : اللزوميات  ترجمہ : رضی حیدر 

Kaboos

مری آنکھ یک دم کھلی دیکھتا ہوں  کھلی کھڑکیوں سے ، سریع گاڑیاں چیختی تھیں  کہ گھڑیوں کی ٹک ٹک کی آواز اتنی بلند سے بلند تر ہوئی جا رہی تھی  کہ جیسے کوئی زور سے اپنے گرانڈیل ہاتھوں سے ان ساعتوں کا طبل پیٹتا جا رہا ہو  وہ گرانڈیل مجھ کو جگاتا تھا ، جاگو!! وہ سرگوشی کرتے ہوئے، نیم وا سی نظر مجھ پے ڈالے ، یہ کہنے لگی بھیڑیں گن لو  ، اور اس ایک لحظے میں بھیڑوں کی جگہ  سر کٹے بھیڑیے ، اپنے دندان نیش  اور کالے مسوڑے نکالے ہنسے جا رہے تھے ! ہنسے جا رہے تھے ، کوئی کھڑکیاں بند کر دے  کوئی بیٹری اس گھڑی کی نکالے کوئی مجھ سے کہہ دے میں زندہ ہوں اور  ،یہ فقط خواب ہے  ایک کابوس ہے  مرےحس کے پنجے تنوں میں کھبے شجر اوہام پر چند لنگوروں کی مانند چڑھے جا رہے تھے کوئی میرے برزخ کے اس گہرے کویں میں اب ڈول ڈالو  کوئی ؟ کوئی ہے ؟  سنو !!؟ کوئی ہے ؟  !!میں زندہ ہوں مجھ کو نکالو  کوئی عزرائیلوں سے ان اسرافیلوں سے کہہ دے  کہ اب صور پھونکیں ، میری روح کو قبض کر لیں  میں زندہ نہیں ،پر مرا بھی نہی...

uranium kay khwab

سالِ یورینیم کی کیا کہوں ، سات بونوں کی حکومت کو ختم ہونا ہی تھا مگر اس دنیائے فانی پر رذیل مینڈک کی حکومت کا ہونا کسی کابوس سے کم نہیں - مگر اب وہ مالک ہے اور ہم گزیدگانِ روز و شب جو پہلے بھی محکوم تھے ابھی بھی غلام ہیں  "وہ سات بونے کہاں گئے جو ہماری پلکوں کو نوچتے تھے جو صبحوں شاموں کے چرخ تھامے ہماری سانسوں کو کاتتے تھے" نہاں تھئیٹر میں رقص گرداں جو پتلیاں تھیں وہ رک گئی تھیں خداۓ پنہاں کا ہاتھ تھامے جو رسیاں تھیں وہ کٹ گئی تھیں عدم کی لوح یقین پہ لکھے حروف معنی تلاشتے تھے جلے پروں سے فرشتے اپنے ، خداۓ فانی تراشتے تھے مچان خلیے کی چھوڑ، ---دھواں--- یورینیم کے نحیف پلوں کی زرد چمڑی کو چاٹتا تھا سلگتی لاشوں کی بوئے بد کا خمیر نتھنوں کو کاٹتا تھا قرون لمحوں میں منفجر تھے سکڑتی چمڑی کو بوٹی بوٹی سے گرم ناخن کھروچتے تھے جنین ماؤں کے نوک پستاں ، چبا رہے تھے، دبوچتے تھے جگر سے رستا لعاب چیخوں کے ہاتھ گرتا وبال زلفوں کے کڑکڑاتے بدھا کے لاشے پہ بین کرتا، درخت پیپل کا سڑ گیا تھا وہیں پہ اندو ندی کا اژدر زمیں کی گردن پہ چڑھ گیا تھا​ رز...

Al-yazir mar gaya

بلب کا جبڑا کھلے ، آگ برس جاۓ تو ؟ گر یہ استخر ابھی ، خون سے بھر جاۓ تو ؟ یا یہ استخر  جہاں آب کے منشوروں سے) (رنگ ہستی سے فنا کی یہ دھنک ابھری ہے ،کوئی استخر نہ ہو ، کوکھ ہو میری ماں کی  ، اور میں میں نہیں ، شاید وہ اچھالتا پانی  جس نے سانسوں کی طنابوں کو پکڑ رکھا تھا  !!وائے قسمت کے مرے ہاتھ میں رسی نہ رہی آہ میرا یہ جنیں خون اگلتا جاۓ  اس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جاۓ  اس قدر خون کہ جراح کا لبادہ میرے  سرخ ایام کی تنہائی سا گاڑا ہو جاۓ  اورتانبے کے کسی گرم سے برتن میں ابھی  میرے لاشے کے کٹے لخت پڑے ہلتے ہوں   

Mujasma haey ab

وہ گھڑی آنے کو ہے ہاں وہ گھڑی آنے کو ہے تیر سکتے ہو تو تیرو!! چند خداؤں کے حروف جبرئیلِ وقت کی زمبیل میں ٹھونسے ہوئے چونچ میں کنکر لئے ، لاکھوں ابابیلوں کی مثل ہاتھیوں کی فوج کو مسمار کرنے آئیں گے مچھلیوں کے سر تو صدیوں سے سرِ تسلیم خم تھے اب زبانوں پر بھی ان کی قفل باندھے جائیں گے اُن نے صدیوں میں تراشے تھے مجسمہ ہائے آب جو نہنگ تاراج کر کے ، بت شکن کہلائیں گے وہ گھڑی آنے کو ہے جس دم کفِ دریائے وقت پھر عدم کے اس سمندر میں گرے گی اور یہاں ناخدا جی اٹھائیں گے ناخدا جو تب خدا ہونگے ، لکھیں گے لوح پر دورِ پارینہ میں جلتی ، آتشِ نمرود پر خضر و موسیٰ پھر لڑیں گے ، قتلِ نومولود پر بھسم ہوں گے جسدِ خاکی جن سے ہو گی پھر نمود چند نئی اقوام کی ہم مگر باقی رہیں گے ہم خداؤں کے حروف ہم ابابیلوں کی چونچ ہم ہی ماہی کی زباں ہم مجسمہ ہاے آب