Skip to main content

Kaboos


مری آنکھ یک دم کھلی دیکھتا ہوں 
کھلی کھڑکیوں سے ، سریع گاڑیاں چیختی تھیں 
کہ گھڑیوں کی ٹک ٹک کی آواز اتنی
بلند سے بلند تر ہوئی جا رہی تھی 
کہ جیسے کوئی زور سے اپنے گرانڈیل ہاتھوں سے
ان ساعتوں کا طبل پیٹتا جا رہا ہو 
وہ گرانڈیل مجھ کو جگاتا تھا ، جاگو!!

وہ سرگوشی کرتے ہوئے، نیم وا سی نظر مجھ پے ڈالے ، یہ کہنے لگی بھیڑیں گن لو 

، اور اس ایک لحظے میں بھیڑوں کی جگہ 
سر کٹے بھیڑیے ، اپنے دندان نیش 
اور کالے مسوڑے نکالے
ہنسے جا رہے تھے
! ہنسے جا رہے تھے
، کوئی کھڑکیاں بند کر دے 
کوئی بیٹری اس گھڑی کی نکالے
کوئی مجھ سے کہہ دے میں زندہ ہوں اور 
،یہ فقط خواب ہے 
ایک کابوس ہے 
مرےحس کے پنجے
تنوں میں کھبے
شجر اوہام پر
چند لنگوروں کی مانند چڑھے جا رہے تھے
کوئی میرے برزخ کے اس گہرے کویں میں اب ڈول ڈالو 
کوئی ؟
کوئی ہے ؟ 
سنو !!؟
کوئی ہے ؟ 
!!میں زندہ ہوں مجھ کو نکالو 
کوئی عزرائیلوں سے ان اسرافیلوں سے کہہ دے 
کہ اب صور پھونکیں ، میری روح کو قبض کر لیں 
میں زندہ نہیں ،پر مرا بھی نہیں ہوں 
میں اس دار پندار پر ، اپنی چند آخری ہچکیاں لے رہا ہوں 


شبِ نور کے چندر 

Comments

Popular posts from this blog

رقیب سے ، قسط اول، سکرپٹ

میں کافی عرصے سے چاہ رہا تھا کہ لالٹین پر فکشن میں افسانہ اور ناول کے علاوہ سکرپٹ بھی چھپیں کیونکہ ٹی وی پر نشر کیے گیے ڈراموں کے سکرپٹس کا ملنا اتنا آساان نہین ہے سو میں نے رقیب سے نامی پاکستانی ڈرامے کو وڈیو سے سکرپٹ میں بدلہ ہے۔ اس کا مقصد خود سکرپٹ رائیٹنگ سیکھنا ہے۔ بی گل کا لکھا ہوا یہ ڈرامہ کسی فلم کی مانند لکھا ہوا ہے جہاں متن اور ذیلی متن میں چھپےگنجلک کرداروں کے تانے بانوں کو بی گل نے بڑے زیرک انداز میں آہستہ آہستہ کھولا ہے ۔ امید کرتا ہوں جو لوگ سکرپٹ رائیٹنگ پڑھنا چاہتے ہونگے اس سے مستفید ہونگے۔ بی گل : اگر آپ کو میری یہ حرکت ناگوار گزرے تو مطلع کر دیجیے گا اور ہم یہ سکرپٹ وبسائٹ سے ہٹا دیں گے۔بہرکیف اس سکرپٹ کو میری طرف سے ایک ٹریبوٹ سمجھا جائے۔ اس گزارش کے ساتھ کہ اگر آپ اپنے سکرپٹ کا متن شیئر کرنا چاہیں تو اسے بخوشی شائع کیا جائے گا۔ سین ا ۔ ڈیوڑھی ۔ بیرون. رات مقصود 55 ، مچھر دانی میں لیٹا ہے کہ دروازہ پر دستک ہوتی ہے۔ مقصود اٹھ کر ڈیوڑھی سے ہوتا ہوا دروازہ تک آتا ہے اور دروازہ کا کواڑ کھولتا ہے۔ سین ۲ ۔ گلی ۔ بیرون۔ رات سکینہ 45، جس کے چہرے پر نیل کا نشان ہے جو ...

مرشد ‏کی ‏قسم

زمین پر بیٹھتے ہی مقبول نے اپنے گیلے ہاتھ اپنی نسواری قمیض سے پونچھے اور قصہ سنانا شروع کیا۔  حاجی افضال نے، جو اس وقت صرف فضلو تھا، کچھ تامل کے بعد وہ معجون یا سفوف یا جو بھی تھا پھک لیا۔ افتی اور شامی دونوں مُسک رہے تھے۔  "ما چو 15 منٹ کی بات ہے یہ تن کے سیدھا ہو جائے گا۔ لگا رہیں رات ساری فر "  فضلو کی سہاگ رات تھی اور یہ دوست اس کا بھلا چاہتے ہی ہونگے اب نیتوں کا حال تو خدا جانے، واللہ اعلم،  پر گولڑے کی کسی خاص دکان سے لائے تھے یہ سفوف یا معجون یا جو بھی تھا۔  حکیم نے کہا تھا بوڑھے کھائیں تو جوان ہو جائیں، اور جوان کھائیں تو حیوان ہو جائیں اور حیوان اب کھائیں تو پتا نہیں کیا ہو۔ پر حیوان کیوں کھانے لگے یہ معجون سر جی۔ ان کو تھوڑا ہی نا سرعتِ انزال کا مسئلہ ہوتا ہو گا۔ اور ہوتا بھی ہو اس کا کوئی ربط ان کی انا سے تھوڑا ہی نا ہوتا ہو گا،جو ہو گیا تو ہو گیا۔ اچھا، سنیں۔۔۔ اب دوستوں نے مسکتے ہوئے اسے اندر بھیج دیا۔ اماں جی مسکراتے مسکراتے اسے گھور رہی تھیں۔ ابا جی تو کب کے لیٹنے کی تیاری میں تھے۔ چھوٹا سا تو گھر ہے انکا۔ دو تو کمرے ہیں۔ یا یوں کہو کہ کمرا ایک...

chess piece of heart