Skip to main content

Al-yazir mar gaya



بلب کا جبڑا کھلے ، آگ برس جاۓ تو ؟
گر یہ استخر ابھی ، خون سے بھر جاۓ تو ؟
یا یہ استخر 
جہاں آب کے منشوروں سے)
(رنگ ہستی سے فنا کی یہ دھنک ابھری ہے
،کوئی استخر نہ ہو ، کوکھ ہو میری ماں کی 
، اور میں میں نہیں ، شاید وہ اچھالتا پانی 
جس نے سانسوں کی طنابوں کو پکڑ رکھا تھا 
!!وائے قسمت کے مرے ہاتھ میں رسی نہ رہی
آہ میرا یہ جنیں خون اگلتا جاۓ 
اس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جاۓ 
اس قدر خون کہ جراح کا لبادہ میرے 
سرخ ایام کی تنہائی سا گاڑا ہو جاۓ 
اورتانبے کے کسی گرم سے برتن میں ابھی 
میرے لاشے کے کٹے لخت پڑے ہلتے ہوں 


 

Comments

Popular posts from this blog

رقیب سے ، قسط اول، سکرپٹ

میں کافی عرصے سے چاہ رہا تھا کہ لالٹین پر فکشن میں افسانہ اور ناول کے علاوہ سکرپٹ بھی چھپیں کیونکہ ٹی وی پر نشر کیے گیے ڈراموں کے سکرپٹس کا ملنا اتنا آساان نہین ہے سو میں نے رقیب سے نامی پاکستانی ڈرامے کو وڈیو سے سکرپٹ میں بدلہ ہے۔ اس کا مقصد خود سکرپٹ رائیٹنگ سیکھنا ہے۔ بی گل کا لکھا ہوا یہ ڈرامہ کسی فلم کی مانند لکھا ہوا ہے جہاں متن اور ذیلی متن میں چھپےگنجلک کرداروں کے تانے بانوں کو بی گل نے بڑے زیرک انداز میں آہستہ آہستہ کھولا ہے ۔ امید کرتا ہوں جو لوگ سکرپٹ رائیٹنگ پڑھنا چاہتے ہونگے اس سے مستفید ہونگے۔ بی گل : اگر آپ کو میری یہ حرکت ناگوار گزرے تو مطلع کر دیجیے گا اور ہم یہ سکرپٹ وبسائٹ سے ہٹا دیں گے۔بہرکیف اس سکرپٹ کو میری طرف سے ایک ٹریبوٹ سمجھا جائے۔ اس گزارش کے ساتھ کہ اگر آپ اپنے سکرپٹ کا متن شیئر کرنا چاہیں تو اسے بخوشی شائع کیا جائے گا۔ سین ا ۔ ڈیوڑھی ۔ بیرون. رات مقصود 55 ، مچھر دانی میں لیٹا ہے کہ دروازہ پر دستک ہوتی ہے۔ مقصود اٹھ کر ڈیوڑھی سے ہوتا ہوا دروازہ تک آتا ہے اور دروازہ کا کواڑ کھولتا ہے۔ سین ۲ ۔ گلی ۔ بیرون۔ رات سکینہ 45، جس کے چہرے پر نیل کا نشان ہے جو ...

chess piece of heart

marinated wounds