Skip to main content

تمہیں کیسے بتاؤں

 تمہیں کیسے بتاؤں کہ میں

ایک بھولی ہوئی وادی کے
گمنام شہر کا بچہ تھا
وہ دھول،
جو اس کے پہاڑوں پر اڑا کرتی تھی
ہر سال مون سون کے آنسوؤں میں
اپنا دامن تر کیے
گھاس پر تھک کر بیٹھ جاتی تھی
میرے دل پر جمی ہے
تمہیں کیسے بتاؤں کہ مجھ میں
اور چند بچوں کی گرفت سے نکلے
ٹوٹی پکھڈنڈیوں کی ڈھلوانوں سے
لڑھکتے پرانے ٹائروں میں
کوئی فرق نہیں
ہماری قسمت میں
دریاؤں کے غوغوں میں گر کر
کھو جانا بہت پہلے لکھ دیا گیا تھا
تمہیں کیسے بتاؤں کہ
میرے شہر کی مائیں
خاکستروں کی آخری چنگاری کو
زندہ کرتے کرتے
خود راکھ میں بکھرنے لگتی تھیں
اور میں ان ماؤں کا آخری وارث
اس خاکستر کی آگ کو چھوڑ کر
تمہارے پہلو میں بیٹھا ہوں
تمہیں کیسے بتاؤں کہ
آج میں زندہ رہنا،
تمہارے ساتھ سب بھلا کر
رقص کرنا میرے بس میں نہیں ہے
تمہیں کیسے بتاؤں کہ
پرتگال کی اس فادو سنگر کی آہ و زاری میں
مجھے اپنی موت کا مرثیہ کیوں سنائی دیتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

رقیب سے ، قسط اول، سکرپٹ

میں کافی عرصے سے چاہ رہا تھا کہ لالٹین پر فکشن میں افسانہ اور ناول کے علاوہ سکرپٹ بھی چھپیں کیونکہ ٹی وی پر نشر کیے گیے ڈراموں کے سکرپٹس کا ملنا اتنا آساان نہین ہے سو میں نے رقیب سے نامی پاکستانی ڈرامے کو وڈیو سے سکرپٹ میں بدلہ ہے۔ اس کا مقصد خود سکرپٹ رائیٹنگ سیکھنا ہے۔ بی گل کا لکھا ہوا یہ ڈرامہ کسی فلم کی مانند لکھا ہوا ہے جہاں متن اور ذیلی متن میں چھپےگنجلک کرداروں کے تانے بانوں کو بی گل نے بڑے زیرک انداز میں آہستہ آہستہ کھولا ہے ۔ امید کرتا ہوں جو لوگ سکرپٹ رائیٹنگ پڑھنا چاہتے ہونگے اس سے مستفید ہونگے۔ بی گل : اگر آپ کو میری یہ حرکت ناگوار گزرے تو مطلع کر دیجیے گا اور ہم یہ سکرپٹ وبسائٹ سے ہٹا دیں گے۔بہرکیف اس سکرپٹ کو میری طرف سے ایک ٹریبوٹ سمجھا جائے۔ اس گزارش کے ساتھ کہ اگر آپ اپنے سکرپٹ کا متن شیئر کرنا چاہیں تو اسے بخوشی شائع کیا جائے گا۔ سین ا ۔ ڈیوڑھی ۔ بیرون. رات مقصود 55 ، مچھر دانی میں لیٹا ہے کہ دروازہ پر دستک ہوتی ہے۔ مقصود اٹھ کر ڈیوڑھی سے ہوتا ہوا دروازہ تک آتا ہے اور دروازہ کا کواڑ کھولتا ہے۔ سین ۲ ۔ گلی ۔ بیرون۔ رات سکینہ 45، جس کے چہرے پر نیل کا نشان ہے جو ...

معدومیت کا مکالمہ

میں : گوشت میں لتھڑی ہوئی اس قوم کے حیلوں ، بہانوں سا ہے یہ گرداب ، کہ جس میں ہم اور تم فنا ہونے کو ہیں یا فنا ہو بھی چکے ؟ وہ : فنا ہو رہے ہیں (سرگوشی) تم : مگر جو قمقمیں جلتی ہیں بھجتی ہیں ، یہ آرزوئیں ہی تو ہیں امیدیں ہیں صبح نو کی میں : امیدیں ، آرزوئیں ، خواب! ہاہ !! ایک اور حیلہ بہانہ ہم جل رہے ہیں ! سنا تم نے ؟ ہم جل رہے ہیں یہ قمقمیں نہیں ہیں .. میری تمہاری وردیاں ہیں سونگھو !! تمہیں پکتے گوشت کی بدبو نہیں آتی یہ ہمارا ہے ! میرا تمہارا گوشت سونگھو!! تم : مجھے نزلہ ہے چند دن سے ، کسی بدبو کی خوشبو کی رسائی ممکن نہیں مجھے تک مگر میں دیکھ سکتا ہوں میں : تو دیکھو نا !!! یہ سر کٹے بچوں کے ریلے یہ نیلی موچھیں یہ بغلوں میں،مسانوں پے بال یہی دیکھ کر تو انہوں نے کہا تھا ، یہ بچے نہیں ہیں یہی دیکھ کر ، انہوں نے اپنے ایمانِ محکم کو اور پختہ کیا تھا تم : ہاں ، انہوں نے کہا تھا یہ بچے نہیں ہیں میں : تو کیوں امیدوں کی رجا، کی بات کرتے ہو ابھی خون ابلے گا ، درد دھواں بن کر اس آشفتہ سر سے نکلے گا تو سنو گے ؟ تم : میں سن تو رہا ہوں میں : مجھے مت سنو ! یہ چیخیں سنو !! تم : یہ مدھم سی چیخیں ؟ میں...

sunbeam's bedsheet