Skip to main content

Khud ko khud say uchalna


تھامیے دل کو کس طرح کہ ہم 
خود کو خود سے اچھال بیٹھے ہیں 
کاڑھتے مجھ سے شورہ پشتوں کو 
اپنی ہڈّیاں ابال بیٹھے ہیں
خلد کوں جا کہا کہ تنہائی میں
آپ بھی یوں نڈھال بیٹھے ہیں
میرے شعروں کی موجِ اوج پہ تم
اور میرے زوال بیٹھے ہیں
اس کو کیسے نکالیے دل سے
ہم کہ دل ہی نکال بیٹھے ہیں
دل سے مردے کے خون پینے کوں
کچھ گِدھوں سے ملال بیٹھے ہیں
میری پستی کی زرد غاروں میں
میرے سارے کمال بیٹھے ہیں
سر پہ پھر،آگہی سے ٹیک لگا
حسن کے خد و خال بیٹھے ہیں
دل کےبیٹھے ، وہم کے صوفوں پر 
کیسے کیسے خیال بیٹھے ہیں 
گولیاں داغیے خیال سے آج
رضی ایسے غزال بیٹھے 

Comments

Popular posts from this blog

رقیب سے ، قسط اول، سکرپٹ

میں کافی عرصے سے چاہ رہا تھا کہ لالٹین پر فکشن میں افسانہ اور ناول کے علاوہ سکرپٹ بھی چھپیں کیونکہ ٹی وی پر نشر کیے گیے ڈراموں کے سکرپٹس کا ملنا اتنا آساان نہین ہے سو میں نے رقیب سے نامی پاکستانی ڈرامے کو وڈیو سے سکرپٹ میں بدلہ ہے۔ اس کا مقصد خود سکرپٹ رائیٹنگ سیکھنا ہے۔ بی گل کا لکھا ہوا یہ ڈرامہ کسی فلم کی مانند لکھا ہوا ہے جہاں متن اور ذیلی متن میں چھپےگنجلک کرداروں کے تانے بانوں کو بی گل نے بڑے زیرک انداز میں آہستہ آہستہ کھولا ہے ۔ امید کرتا ہوں جو لوگ سکرپٹ رائیٹنگ پڑھنا چاہتے ہونگے اس سے مستفید ہونگے۔ بی گل : اگر آپ کو میری یہ حرکت ناگوار گزرے تو مطلع کر دیجیے گا اور ہم یہ سکرپٹ وبسائٹ سے ہٹا دیں گے۔بہرکیف اس سکرپٹ کو میری طرف سے ایک ٹریبوٹ سمجھا جائے۔ اس گزارش کے ساتھ کہ اگر آپ اپنے سکرپٹ کا متن شیئر کرنا چاہیں تو اسے بخوشی شائع کیا جائے گا۔ سین ا ۔ ڈیوڑھی ۔ بیرون. رات مقصود 55 ، مچھر دانی میں لیٹا ہے کہ دروازہ پر دستک ہوتی ہے۔ مقصود اٹھ کر ڈیوڑھی سے ہوتا ہوا دروازہ تک آتا ہے اور دروازہ کا کواڑ کھولتا ہے۔ سین ۲ ۔ گلی ۔ بیرون۔ رات سکینہ 45، جس کے چہرے پر نیل کا نشان ہے جو ...

chess piece of heart

marinated wounds