Skip to main content

blood pressure

frida khalo without Hope


آه جکڑے ہے رگِ جاں کو یا کیڑوں کا ہجوم ،ریشہ ریشہ بنُے، ریشم کے رسن طوق کیے ؟ 
پھر سے دُزدانِ ابد، بحرِ فنا کے قزاق 
میری راتوں میں تلاطم کے پیالے تھامے 
سینے پیٹیں ہیں ، لہو روئے ہیں ، بتیاتے ہیں 

سچ کی آغوش ،اے خرموش ، پرتگاه ِعمیق 
سچ کی آغوش وہ بے پایاں لحد ہے جس میں 
رمزِ ہستی کے کئی لاکھ چھچھوندر مدفون" 

! بام فردوس سے کودیں گے حشیشین ابھی 
! منہ میں دابے ہوئے طوماروں پہ پیغامِ خدا 
برہنہ حرف معانی کے لبادے اوڑے 
اک گرانڈیل سے سائے کی طرح رقصاں ہیں 
آتشِ عقل کے، الحاد کے گرد 
اک پریزاد کے گرد ۔۔۔ 


 

Comments

Popular posts from this blog

رقیب سے ، قسط اول، سکرپٹ

میں کافی عرصے سے چاہ رہا تھا کہ لالٹین پر فکشن میں افسانہ اور ناول کے علاوہ سکرپٹ بھی چھپیں کیونکہ ٹی وی پر نشر کیے گیے ڈراموں کے سکرپٹس کا ملنا اتنا آساان نہین ہے سو میں نے رقیب سے نامی پاکستانی ڈرامے کو وڈیو سے سکرپٹ میں بدلہ ہے۔ اس کا مقصد خود سکرپٹ رائیٹنگ سیکھنا ہے۔ بی گل کا لکھا ہوا یہ ڈرامہ کسی فلم کی مانند لکھا ہوا ہے جہاں متن اور ذیلی متن میں چھپےگنجلک کرداروں کے تانے بانوں کو بی گل نے بڑے زیرک انداز میں آہستہ آہستہ کھولا ہے ۔ امید کرتا ہوں جو لوگ سکرپٹ رائیٹنگ پڑھنا چاہتے ہونگے اس سے مستفید ہونگے۔ بی گل : اگر آپ کو میری یہ حرکت ناگوار گزرے تو مطلع کر دیجیے گا اور ہم یہ سکرپٹ وبسائٹ سے ہٹا دیں گے۔بہرکیف اس سکرپٹ کو میری طرف سے ایک ٹریبوٹ سمجھا جائے۔ اس گزارش کے ساتھ کہ اگر آپ اپنے سکرپٹ کا متن شیئر کرنا چاہیں تو اسے بخوشی شائع کیا جائے گا۔ سین ا ۔ ڈیوڑھی ۔ بیرون. رات مقصود 55 ، مچھر دانی میں لیٹا ہے کہ دروازہ پر دستک ہوتی ہے۔ مقصود اٹھ کر ڈیوڑھی سے ہوتا ہوا دروازہ تک آتا ہے اور دروازہ کا کواڑ کھولتا ہے۔ سین ۲ ۔ گلی ۔ بیرون۔ رات سکینہ 45، جس کے چہرے پر نیل کا نشان ہے جو ...

chess piece of heart

marinated wounds