Skip to main content

wafoor e dard


وفورِ درد سے پھر بھر گیا ہے جام ابھی 
اتارتا ہوں حلق سے یہ اِژدہام ابھی 
یوں چھیڑ سوز کا ساز اب کے کچھ سنائی نہ دے 
سبق خرد کے، نہ ہی اس کی ہنسی کی جھنکار 
ہیولۂ غمِ دل ، نہ ہی خواب کا پندار 
نشہ ہو اس قدر اب کے کہ کچھ دکھائی نہ دے 
یہ روشنی جو ابھی میکدے میں ہے میرے 
لہو کے لال چراغوں سے مرتعش کرنا 
مجھے´ ابھی` کے کهربا میں بند کرنے کے بعد 
ہزاروں سال سمندر کی تح میں رکھ دینا 
میں مل رہوں گا کسی روز ایکسکویشن میں 
میرے وجود کو مایکروسکوپ پر رکھنا 
ہرایک سانس کے لاشے کو کاٹ کر تکنا 
مری ہنسی کی یہ شریانیں کب پھٹی ہونگی 
مری نگاہ کے بطن میں یہ بوزنے کس صبح 
گھسے تھے، دھاڑتے اعلان ِشام کرتے ہوئے 

Comments

Popular posts from this blog

رقیب سے ، قسط اول، سکرپٹ

میں کافی عرصے سے چاہ رہا تھا کہ لالٹین پر فکشن میں افسانہ اور ناول کے علاوہ سکرپٹ بھی چھپیں کیونکہ ٹی وی پر نشر کیے گیے ڈراموں کے سکرپٹس کا ملنا اتنا آساان نہین ہے سو میں نے رقیب سے نامی پاکستانی ڈرامے کو وڈیو سے سکرپٹ میں بدلہ ہے۔ اس کا مقصد خود سکرپٹ رائیٹنگ سیکھنا ہے۔ بی گل کا لکھا ہوا یہ ڈرامہ کسی فلم کی مانند لکھا ہوا ہے جہاں متن اور ذیلی متن میں چھپےگنجلک کرداروں کے تانے بانوں کو بی گل نے بڑے زیرک انداز میں آہستہ آہستہ کھولا ہے ۔ امید کرتا ہوں جو لوگ سکرپٹ رائیٹنگ پڑھنا چاہتے ہونگے اس سے مستفید ہونگے۔ بی گل : اگر آپ کو میری یہ حرکت ناگوار گزرے تو مطلع کر دیجیے گا اور ہم یہ سکرپٹ وبسائٹ سے ہٹا دیں گے۔بہرکیف اس سکرپٹ کو میری طرف سے ایک ٹریبوٹ سمجھا جائے۔ اس گزارش کے ساتھ کہ اگر آپ اپنے سکرپٹ کا متن شیئر کرنا چاہیں تو اسے بخوشی شائع کیا جائے گا۔ سین ا ۔ ڈیوڑھی ۔ بیرون. رات مقصود 55 ، مچھر دانی میں لیٹا ہے کہ دروازہ پر دستک ہوتی ہے۔ مقصود اٹھ کر ڈیوڑھی سے ہوتا ہوا دروازہ تک آتا ہے اور دروازہ کا کواڑ کھولتا ہے۔ سین ۲ ۔ گلی ۔ بیرون۔ رات سکینہ 45، جس کے چہرے پر نیل کا نشان ہے جو ...

ماہی ‏سیاہ ‏کوچولو ‏‏

سردیوں کی سب سے لمبی رات یعنی شبِ یلدا تھی۔ ندی کی تہہ میں ایک بوڑھی مچھلی نے اپنے 12000 بچوں اور نواسے نواسیوں کو اکٹھا کیا اور کہانی سنانی شروع کی :  تو بچو! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دور ایک  وادی میں ایک ندی تھی جہاں ایک چھوٹی سی  کالی مچھلی اپنی اماں کے ساتھ رہا کرتی تھی، نام تھا اس کا ماہی کوچولو۔ ماہی یعنی مچھلی اور کوچولو یعنی چھوٹی سی پاری سی۔ ندی کا پانی پہاڑ کے پتھروں سے نکل کر وادی کی گہرائیوں میں کھو جاتا تھا۔ ماہی کوچولو اور اس کی اماں کا گھر ایک کالے پتھر کے پیچھے تھا جس پر کائی جمی ہوئی تھی۔ رات ہوتی تو ماں بیٹی دونوں کائی کے نیچے  خاموشی سے سو جاتیں۔ ماہی کوچولو کی بڑی خواہش تھی کہ کوئی ایسی رات بھی ہو کہ کسی صورت چاند کی روشنی اسکے گھر میں دیکھنے کو ملے پر اس کائی جمے  کالے پتھر کو چاند کی روشنی کہاں نصیب ہونا تھی۔ دونوں ماں بیٹی ایک چھوٹی سی ندی میں صبح سے شام ایک دوسرے کے آگے پیچھے تیرتے رہتے۔ کبھی کبھی دوسری مچھلیاں بھی ساتھ ہو لیتیں اور زندگی ایک چھوٹے سے دائرے میں گھومتی رہتی۔ ماہی کوچولو بہت عقل مند تھی اور شاید اسکی یہ وجہ تھی کہ اس کی اماں ...

معدومیت کا مکالمہ

میں : گوشت میں لتھڑی ہوئی اس قوم کے حیلوں ، بہانوں سا ہے یہ گرداب ، کہ جس میں ہم اور تم فنا ہونے کو ہیں یا فنا ہو بھی چکے ؟ وہ : فنا ہو رہے ہیں (سرگوشی) تم : مگر جو قمقمیں جلتی ہیں بھجتی ہیں ، یہ آرزوئیں ہی تو ہیں امیدیں ہیں صبح نو کی میں : امیدیں ، آرزوئیں ، خواب! ہاہ !! ایک اور حیلہ بہانہ ہم جل رہے ہیں ! سنا تم نے ؟ ہم جل رہے ہیں یہ قمقمیں نہیں ہیں .. میری تمہاری وردیاں ہیں سونگھو !! تمہیں پکتے گوشت کی بدبو نہیں آتی یہ ہمارا ہے ! میرا تمہارا گوشت سونگھو!! تم : مجھے نزلہ ہے چند دن سے ، کسی بدبو کی خوشبو کی رسائی ممکن نہیں مجھے تک مگر میں دیکھ سکتا ہوں میں : تو دیکھو نا !!! یہ سر کٹے بچوں کے ریلے یہ نیلی موچھیں یہ بغلوں میں،مسانوں پے بال یہی دیکھ کر تو انہوں نے کہا تھا ، یہ بچے نہیں ہیں یہی دیکھ کر ، انہوں نے اپنے ایمانِ محکم کو اور پختہ کیا تھا تم : ہاں ، انہوں نے کہا تھا یہ بچے نہیں ہیں میں : تو کیوں امیدوں کی رجا، کی بات کرتے ہو ابھی خون ابلے گا ، درد دھواں بن کر اس آشفتہ سر سے نکلے گا تو سنو گے ؟ تم : میں سن تو رہا ہوں میں : مجھے مت سنو ! یہ چیخیں سنو !! تم : یہ مدھم سی چیخیں ؟ میں...